Wednesday, 22, July, 2026

کیا امام کا ظہور ہونے کو ہے ؟

کیا امام کا ظہور ہونے کو ہے ؟
کیا امام کا ظہور ہونے کو ہے ؟ محمد ﷺ نے فرمایا : “قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک زمین ظلم و ستم سے نہ بھر جائے ، پھر میرے گھرانے کا ایک آدمی نکلے گا اور اسے عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسے وہ ظلم و ستم سے بھری ہوگی۔” ابن حبان مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ قیامت سے قبل دنیا میں محمد ﷺ کے گھرانے سےایک ایسا آدمی آئے گا جو ظلم و ستم کو عدل و انصاف سے بدل دے گا ، اس آدمی کا لقب مہدی ہوگا۔ علی نے اپنے بڑے بیٹے حسن کو دیکھ کر فرمایا : ‘میرے اس بیٹے کی نسل سے ایک آدمی ہو گا جو محمد ﷺ کا ہم نام ہو گا ، وہ اخلاق میں ان ہی کے مشابہ ہو گا مگر شکل میں مشابہ نہیں ہو گا ، پھر قصہ بیان کیا کہ وہ زمین کو عدل سے بھر دے گا۔’ ابو داود امام مہدی محمد ﷺ کے ہم نام ہوں گے اور آپ کا تعلق حسن کی نسل سے ہوگا۔ امام مہدی کا ظہور محمد ﷺ نے فرمایا : “ایک خلیفہ کی موت پر اختلاف ہو گا ، پھر مدینے کا ایک آدمی نکلے گا اور مکہ بھاگ جائے گا ، پھر مکہ کے لوگ اس کے پاس آئیں گے اور اسے امامت کے لیے کھڑا کریں گے حالانکہ وہ یہ نہیں چاہتا ہوگا اور وہ اس کے ساتھ حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان بیعت کریں گے۔” ابو داود ایسا لگتا ہے کہ ایک عرب بادشاہ کی موت کے بعد غالباً جانشینی کے مسئلے پر امیدواروں میں اختلاف پیدا ہوگا اور عرب مملکت انتشار کا شکار ہو جائے گی۔ اس وقت لوگ حدیث کی روشنی میں مدینے میں ایک ایسے آدمی کو تلاش کریں گے جو محمد ﷺ کا ہم نام ہو اور حسن کی نسل سے ہو۔ ہم جانتے ہیں کہ مکہ اور مدینہ میں حسن کی نسل کے لوگ آج بھی آباد ہیں ، سعودی عرب کے قیام سے پہلے مکہ کا انتظام حسن کی اولادوں کے پاس ہی تھا۔ لہذا مطلوبہ آدمی لوگوں کو مل جائے گا لیکن وہ مسلمانوں کا امام بننے سے گھبرائے گا اور بھاگ کر مکہ چلا جائے گا۔ مکہ میں بھی لوگ امامت کے لئے اس پر دباو ڈالیں گے ، آخر کار مکہ کے لوگوں کے اصرار پر یہ آدمی امامت قبول کرلے گا اور یوں اعلان ہوجائے گا کہ مکہ میں امام مہدی کا ظہور ہوگیا ہے۔ لیکن مکہ میں امام مہدی کے ظہور سے پہلے دمشق میں امام مہدی کے دشمن کا ظہور ہونا بھی ضروری ہے۔ امام مہدی کا دشمن محمد ﷺ نے فرمایا : “دمشق کی گہرائی سے ایک آدمی نکلے گا جسے سفیانی کہا جائے گا ، اس کی پیروی کرنے والے زیادہ تر لوگ کلب قبیلے کے ہوں گے ، یہ عورتوں کے پیٹ چاک کرکے لڑکوں کو قتل کرے گا ، قیس قبیلے کے لوگ اس کا مقابلہ کریں گے ، یہ ان سے لڑے گا اور وہ اسے روک نہیں سکیں گے ، پھر میرے گھرانے کا ایک آدمی حرّہ پہنچے گا ، جب سفیانی کو پتہ چلے گا تو وہ اپنے لشکروں میں سے ایک لشکر بھیجے گا ، جسے مہدی شکست دے گا ، پھر سفیانی کے ساتھ جو لوگ بھی ہوں گے انہیں مہدی کی طرف بھیجے گا ، جب وہ صحرا والی زمین پر پہنچیں گے تو زمین انہیں نگل لے گی ان میں سے کوئی نہ بچے گا سوائے خبر دینے والے کے۔ “المستدرک سفیانی دمشق کی گہرائی سے نکلے گا یعنی پیدا ہی دمشق میں ہوگا۔ حدیث کے مطابق سفیانی لقب ہے یعنی اس کا اصل نام کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ سفیانی عورتوں کے پیٹ چاک کرکے لڑکے قتل کرے گا یعنی سفیانی فرعون سے بھی زیادہ سفاک ہوگا ، فرعون تو محض اپنے اقتدار کی بقاء کے خاطر پیدا ہوئے بچوں کو قتل کرتا تھا۔ سفیانی کے زیادہ تر ماننے والے کلب قبیلے کے ہوں گے ، کلب قبیلہ اس وقت شمال مغربی شام میں آباد ہے زیادہ تر کا تعلق شیعہ قوم سے ہے۔ وکی | وکی لگتا ہے کہ سفیانی کا تعلق بھی کلب قبیلہ سے ہوگا جب ہی اس قبیلے کے لوگ بڑی تعداد میں سفیانی کے ساتھ ہوں گے۔ ان خونخوار لوگوں کی لڑائی بنیادی طور پر قیس قبیلے سے ہوگی ، اس لڑائی میں قیس قبیلے کو کامیابی نہیں ہوگی ، قیس ایک بہت بڑا قبیلہ ہے جس کے ذیلی قبائل اس وقت شام میں آباد ہے زیادہ تر کا تعلق سنی قوم سے ہے۔ وکی جب سفیانی شام میں مسلمانوں پر ظلم و ستم ڈھا رہا ہوگا تب مکہ میں امام مہدی کا ظہور ہوگا۔ امامت کا منصب سنبھال کر امام مہدی مکہ سے شام کی طرف پیش قدمی کریں گے ، سفیانی بھی امام مہدی کے خلاف اپنا ایک لشکر بھیجے گا۔ حرّہ کے مقام پر امام مہدی اور سفیانی کے لشکروں کے درمیان تصادم ہوگا اور امام مہدی کے لشکر کو فتح حاصل ہوگی ، حرّہ مدینہ سے شام جاتے ہوئے رستے میں پڑتا ہے۔ حرّہ کی شکست کے بعد سفیانی بڑی فوج امام مہدی کو کچلنے کے لئے روانہ کرے گا ، لیکن جب یہ فوج ایک صحرا میں پہنچے گی تو غالباً زلزلے کی وجہ سے زمین میں غرق ہو جائے گی۔ شیعہ دوستوں کا نظریہ امام جعفر  نے فرمایا : ‘جو مجھے عبداللہ کی موت کی ضمانت دیتا ہے میں اسے مہدی کی ضمانت دیتا ہوں ، پھر کہا ، عبداللہ کی موت کے بعد لوگ کسی پر اتفاق نہیں کر سکیں گے یہاں تک کے بات تمہارے ساتھی تک آجائے گی انشاء اللہ۔’ بحار الانوار اس حدیث کی بنیاد پر ہمارے کچھ شیعہ دوستوں کا ماننا ہے کہ موجودہ سعودی بادشاہ عبد اللہ کی موت کے بعد سعود خاندان کسی بادشاہ پر متفق نہیں ہو پائے گا اور پھر امام مہدی کا ظہور ہوگا۔ اس نظریے میں کتنی صداقت ہے اس کا فیصلہ عنقریب ہوجائے گا ، کیونکہ شاہ عبد اللہ کی عمر اب تقریباً ۹۰ برس ہوگئی ہے اور ان کی صحت بھی ٹھیک نہیں رہتی۔ لیکن اگر امام مہدی کا ظہور اس قدر قریب ہے تو پھر اس وقت دمشق میں ایک سفیانی کو ہونا چاہیئے جو فرعون سے بڑا قاتل ہو ، جس کو شام کے کلب قبیلے کی حمایت حاصل ہو ، قیس قبائل اس سے لڑرہے ہوں اور جن پر اس کو غلبہ حاصل ہورہا ہو۔ کیا دمشق میں ایسا کوئی شخص ہے ؟ یہ وہ سوال ہے جس کا تسلی بخش جواب ہمارے شیعہ دوستوں کے پاس نہیں ہے ، چلیں ان کی مدد کردیتے ہیں۔ بشار الاسد بشار الاسد دمشق میں پیدا ہوا تھا اس کا تعلق کلب قبیلے سے ہے۔ وکی | وکی اس کی طاقت کلب قبیلے کے شیعہ نوجوانوں کا گروہ ہے جسے شبيحة کہا جاتا ہے ، یہ لوگ اقتدار کے خاطر سنی عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ وکی ۲۰۱۱ میں شام کے لوگوں نے اس کے اقتدار کے خلاف احتجاج کیا جسے اس نے طاقت کے ذریعے کچلنے کی کوشش کی ، اس وجہ سے اس کے خلاف مسلح جدوجہد شروع ہوگئی جو اب تک جاری ہے۔ اپنے اقتدار کو بچانے کے خاطر یہ اب تک عورتوں اور بچوں سمیت ہزاروں مسلمانوں کو قتل کر چکا ہے۔ اس کی فوج اس وقت بنیادی طور پر شیعہ افراد پر مشتمل ہے جن میں اس کا کلب قبیلہ پیش پیش ہے ، اس کے علاوہ دنیا جہاں کے شیعہ اس کی مدد کر رہے ہیں اور روس اسے مسلسل اسلحہ فراہم کررہا ہے جس کی وجہ سے اس کی طاقت بڑھتی جارہی ہے۔ دوسری جانب اس کے مدمقابل بنیادی طور پر شام کے سنی ہیں جن میں قیس قبائل بھی شامل ہیں ، بہت سے غیر ملکی جنگجو بھی ہیں ، لیکن یہ لوگ متحد نہیں ہیں اور آپس میں لڑ پڑے ہیں ، اس کے علاوہ ان کے پاس ایسا اسلحہ بھی نہیں ہے کہ جس سے یہ جنگ جیتی جاسکے۔ لہذا بشار الاسد اور اس کی شیعہ قوم کو سنیوں پر غلبہ حاصل ہوتا جا رہا ہے۔ اس دوران اگر امام مہدی کا ظہور ہوتا ہے تو بشار الاسد کے علاوہ اور کوئی سفیانی ہو نہیں سکتا ، کیونکہ بشار الاسد میں سفیانی کی تمام صفات موجود ہیں۔ اہل تشیع کا ممکنہ ردعمل اگر بشار الاسد سفیانی ہے تو پھر یہ ممکن نہیں ہوگا کہ شیعہ امام مہدی کو مان لیں ، امکان یہی ہے کہ یہ لوگ امام مہدی کو جھوٹا مہدی قرار دیں گے اور بشار الاسد کی قیادت میں امام مہدی سے جنگ کریں گے۔ - See more at: http://www.addeen.org/almahdi#sthash.qBCRQ4JH.dpuf
Share this Page: Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp

Please Share Your Comments:

Khanewal Dot Com Logo

Khanewal.com.pk is a comprehensive local portal offering a blend of cultural insights, public service information, and entertainment resources for the Khanewal district.

Copyright © 2026. All Rights Reserved By:Khanewal.com.pk

Website Powered and Coded by: Soft Dot Com, Basic Templete Designed by HTML Codex