Thursday, 23, July, 2026

زلزلے کی خبر روبوٹ صحافی کی زبانی

زلزلے کی خبر روبوٹ صحافی کی زبانی
پیر کو امریکی ریاست کیلیفورنیا میں آنے والے زلزلے کی خبر سب سے پہلے لاس اینجیلیس کے اخبار ’ایل اے ٹائمز‘ نے دی، لیکن یہ خبر دینے والا اخبار کا عملہ نہیں بلکہ ایک روبوٹ تھا۔ کین شوِنکل نامی ایک صحافی اور کمپیوٹر پروگرامر نے کمپیوٹر کی زبان میں ایک فارمولا (ایلگو رتھم) ترتیب دیا ہے جو زلزلہ آنے پر خود بخود ایک چھوٹی سے خبر یا بریکنگ نیوز لکھ دیتا ہے۔ اسی بارے میں گوگل کا روبوٹ پینٹاگون کے مقابلے کا فاتح دنیا کا پہلا بولنے والا روبوٹ خلا میں مشینی ہاتھ کے لیے 2013 کا ٹیکنالوجی ایوارڈ متعلقہ عنوانات دنیا ایک میگزین کے نمائندے سے بات کرتے ہوئے مسٹر شوِنکل کا کہنا تھا کہ ان کا بنایا ہوا یہ روبوٹ زلزلہ آنے کے تین منٹ کے اندر اندر اخبار کی ویب سائیٹ پر خبر شائع کر دیتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی اب ایل اے ٹائمز تک محدود نہیں بلکہ دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ کے دفاتر میں ’روبوٹ صحافت‘ کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے، لیکن ایل اے ٹائمز دنیا کا پہلا اخبار ہے جس نے اس ٹیکنالوجی کو اپنایا تھا۔ یہ روبوٹ زلزلوں کی پیشگوئی اور ان کی پیمائش کرنے والے امریکی ادارے ’یو ایس جیولوجیکل سروے‘ کے ساتھ منسلک ہے اور زلزلہ آنے کی صورت میں روبوٹ اس ادارے سے براہ راست آنے والے اعدا وشمار کو پڑھ کر اسے ایک خبر کی شکل دے دیتا ہے۔ روبوٹ کی ’مہارت‘ صرف زلزلوں کی خبروں تک محدود نہیں، بلکہ یہ شہر میں ہونے والے جرائم کی بھی مسلسل خبریں بناتا رہتا ہے جس کے لیے روبوٹ ایک دوسری قسم کا ایلگورتھم استعمال کرتا ہے۔ تاہم زلزلے کی خبر کے برعکس روبوٹ جرائم کی خبریں خود ہی شائع نہیں کرتا بلکہ وہ یہ خبریں بنا کر اخباری عملے کی صوابدید پر چھوڑ دیتا ہے کہ وہ کس خبر کو شائع کرنا چاہتے ہیں اور کسے نہیں۔ ایل اے ٹائمز کے علاوہ کئی دیگر ذرائع ابلاغ بھی کمپیوٹر کی ذریعے خبریں لکھنے کا تجربہ کر چکے ہیں، خاص طور پر کھیلوں کی خبروں کے لیے۔ روبوٹ کی لکھی ہوئی زلزلے کی خبر یو ایس جیولوجیکل سروے کے مطابق پیر کی صبح کیلیفورنیا کے شہر ویسٹ وُڈ سے پانچ میل دور 4.7 درجہ کا درمیانی زلزلہ آیا۔ صبح چھ بجکر پچیس منٹ پر آنے والے اس زلزلے کا مرکز پانچ میل کی گہرائی پر تھا۔ یو ایس جی ایس کے مطابق زلزلے کا مرکز بیورلے ہِلز سے چھ میل، یونیورسل سٹی سے سے سات میل، سانتا مونیکا سے سات میل اور سیکرامنٹو سے 348 میل کے فاصلے پر تھا۔ گزشتہ دس دنوں میں اس علاقے میں درجہ 3 یا اس سے زیادہ کا کوئی زلزلہ نہیں آیا۔ یہ اطلاع یو ایس جی ایس کے زلزلے کے شعبے سے آنے والی معلومات پر مبنی ہے اور اسے آپ کے لیے ایک کمپوٹر نے لکھا ہے۔ مسٹر شوِنکل کے مطابق یہ کہنا غلط ہوگا کہ روبوٹ نے ذرائع ابلاغ کے دفاتر میں عملے کی جگے لے لی ہے، تاہم روبوٹ اتنا ضرور کر رہا ہے کہ یہ الیکٹرانک ذرائع سے پہنچنے والے اعداد و شمار کو بہت تیزی سے ترتیب دے دیتا ہے جس سے بریکنگ نیوز بہت جلد قارئین تک پہنچ جاتی ہے۔ ’میرا خیال ہے یہ روبوٹ صحافیوں کے لیے ایک اضافی مددگار کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ’اس کے استعمال سے انسانوں کا بہت سا قیمتی وقت بچ جاتا ہے۔ یہ روبوٹ کھیل، جرائم اور کچھ دوسری خبروں کے لیے درکار بنیادی معلومات اور اعداد و شمار کو عموماً اتنے ہی اچھ انداز میں جمع کر لیتا ہے جیسا ایک انسان کرتا ہے۔ ’ میرے خیال میں اس روبوٹ سے کسی انسان کی نوکری کو کوئی خطرہ نہیں، بلکہ یہ ایک صحافی کے کام کو زیادہ دلچسپ بنا دیتا ہے۔‘
Share this Page: Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp

Please Share Your Comments:

Khanewal Dot Com Logo

Khanewal.com.pk is a comprehensive local portal offering a blend of cultural insights, public service information, and entertainment resources for the Khanewal district.

Copyright © 2026. All Rights Reserved By:Khanewal.com.pk

Website Powered and Coded by: Soft Dot Com, Basic Templete Designed by HTML Codex