Saturday, 18, July, 2026

ہیکنگ سے حفاظت کس طرح

ہیکنگ سے حفاظت کس طرح
انفورمیشن ٹیکنولوجی کی موجودہ ترقی میں انٹرنیٹ کلیدی حیثیت رکھتا ہے جس کی بدولت آج دنیا گلوبل ولیج کا عملی نمونہ بن چکی ہے۔ اب آپ دنیا کے کسی بھی حصے میں ہوں، انفورمیشن ٹیکنولوجی اور انٹرنیٹ کی بدولت دوسروں سے رابطے میں رہنا، اے ٹی ایم یا کریڈٹ کارڈ کا استعمال اور کاروباری سرگرمیاں وغیرہ آپ سے محض ایک کلک کی دوری پر ہیں۔ انسانی تاریخ اس بات کی گواہ رہی ہے کہ عوامی سہولیات سے فائدہ اٹھانے میں مجرمانہ ذہنیت کے لوگ ہمیشہ سرگرم عمل رہے ہیں۔ اسی صورتحال کا سامنا انٹرنیٹ صارفین کو بھی ہے، جنہیں ہیکرز سے بچاؤ کیلئے مختلف جتن کرنا پڑتے ہیں۔ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے کئی لوگ عام طور پر اپنے ای میل اکاؤنٹس، سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور دیگر آن لائن مواد کو ہیکرز کی پہنچ سے دور رکھنے کے لئے مشکل سے مشکل اور نایاب سے نایاب تر الفاظ کا سہارا لیتے ہیں، لیکن لفظ چاہے کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو، اگر وہ لغت میں موجود ہے تو کسی ہیکر کے لئے اس تک پہنچنا نا ممکن نہیں ہوسکتا۔ انفورمیشن ٹیکنولوجی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل الفاظ پر مبنی پاس ورڈز، خواہ وہ کتنے ہی مشکل اور پیچیدہ کیوں نہ ہوں، ہیکرز کی پہنچ سے دور نہیں رہ سکتے، کیونکہ پاس ورڈز تلاش کرنے والے سوفٹ ویئرز کے ذریعے لغت میں موجود الفاظ پر مبنی پاس ورڈز تک باآسانی پہنچا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لغت میں پائے جانے والے الفاظ بطور پاس ورڈز استعمال کرنے والے انٹرنیٹ صارفین ہیکرز کیلئے آسان شکار ثابت ہوتے ہیں، کیونک ہیکرز اپنے مقصد کیلئے الفاظ بنانے والے مخصوص پروگرامز استعمال کرتے ہیں۔ سماجی رابطے کی معروف ویب سائٹ فیس بک کی انتظامیہ کے مطابق ہیکرز کی جانب سے گزشتہ ماہ اس کے کمپیوٹر سسٹمز پر سائبر حملہ ہوا تھا، لیکن اس کے نتیجے میں صارفین کا ڈیٹا چوری ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ جنوری ۲۰۱۲ء میں اس کے کمپیوٹر سسٹمز کو منظم حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ فیس بْک نے یہ بات اپنے سیکیورٹی بلاگ میں بتائی ہے، جو حال ہی میں جاری کیا گیا ہے۔ بلاگ میں بتایا گیا ہے کہ حملہ نامعلوم ہیکروں نے کیا۔فیس بک انتظامیہ کے مطابق گزشتہ ماہ فیس بک سیکیورٹی کو پتہ چلا کہ ان کے سسٹم منظم حملے کا نشانہ بن رہے ہیں اور یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب بعض ملازمین نے ایک موبائل ڈیویلپر کی سائبر حملے کا نشانہ بننے والی ویب سائٹ وزٹ کی تھی۔ گزشتہ کچھ عرصے میں ہیکرز کی جانب سے ہائی ٹیک ویب سائٹس کو نشانہ بنانے کے واقعات سامنے آئے ہیں اور اس سلسلے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ان ہیکرز کا ہدف ڈیویلپرز اور ٹیکنولوجی سے منسلک ادارے تھے۔ فیس بک کے علاوہ رواں ماہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر نے بھی ایسے ہی حملے کا انکشاف کیا تھا۔ ٹوئٹر انتظامی کے مطابق اس سائبر حملے کے نتیجے میں تقریباً ڈھائی لاکھ صارفین کے پاس ورڈز چرا لئے گئے تھے۔ اس بارے میں ٹوئٹر کے انفورمیشن سیکیورٹی ڈائریکٹر باب لارڈ نے ایک بلاگ پوسٹ میں لکھا تھا کہ یہ سائبر حملہ کسی اناڑی نے نہیں کیا اور انہیں اس بات کا بھی یقین ہے کہ یہ اس نوعیت کا واحد واقعہ نہیں تھا۔ لارڈ نے امریکی ٹیکنولوجی اور ذرائع ابلاغ کے اداروں پر ہونے والے بڑے حملوں میں اضافے کا حوالہ دیا تھا۔ ٹوئٹر پر سائبر حملہ ایسے وقت ہوا، جب دنیا کے مختلف نامور اداروں کے سائبر سیکیورٹی نظام کو توڑے جانے کے کئی واقعات سامنے آچکے ہیں۔ اس بارے میں معروف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز اور وال اسٹریٹ جرنل بھی انکشاف کرچکے ہیں کہ ان کی ویب سائٹس ہیک کر لی گئی تھیں، جبکہ دعویٰ یہ کیا گیا ہے کہ ہیکرز کا تعلق چین سے تھا۔ دفاتر کی سطح پر فائر وال کے نظام سے مدد لینے کے علاوہ انٹرنیٹ سیکیورٹی کیلئے اچھا پاس ورڈ بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اچھا پاس ورڈ وہ کہلاتا ہے جس میں کیپیٹل لیٹرز یعنی بڑے حروف اور اسمال لیٹرز یعنی چھوٹی حروف کو نمبروں اور اسپیشل کیریکٹرز مثلاً نقطوں وغیرہ کے ساتھ ملا کر بنایا جاتا ہے۔ ایسا پاس ورڈز کم سے کم ۸ کیریکٹرز پر مشتمل ہونا ضروری ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ ڈیوائسز کیلئے بہتر ہے کہ ان کیلئے ۲۰ کیریکٹرز پر مبنی پاس ورڈ رکھا جائے۔ اس شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاس ورڈز مقرر کرتے وقت ناموں، سالگرہ وغیرہ کے دن یا تاریخ، نمبر یا کوئی بھی باترتیب پیٹرن استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہئے۔اکثر اوقات صارفین پاس ورڈ کیلئے ناموں کے اختتام پر ایک نمبر شامل کر دیتے ہیں، لیکن ہیکرز سے بچنے کیلئے یہ طریقہ بھی ناکافی ثابت وتا ہے۔ ایک اچھے پاس ورڈ کو پہلی نظر میں کافی عجیب و غریب دکھائی دینا چاہئے۔ مثال کے طور پر lmP4agT41 یا اسی طرز پر کوئی اور ترتیب۔ ایسے پاس ورڈ چونکہ یاد رکھنے کیلئے کافی مشکل ثابت ہوتے ہیں، اسلئے صارفین کو انہیں اپنے ذہنوں میں درج کرنے کے لئے مناسب طریقہ کار بھی وضع کرنا چاہئے۔ ایک اور بات یہ کہ پاس ورڈ ایک انتہائی اہم چیز ہوتی ہے، جسے کسی کو بھی نہیں بتانا چاہئے اور یہ بھی ضروری ہے کہ اپنے تمام پاس ورڈز کو زیادہ سے زیادہ ہر تین ماہ میں تبدیل کیا جائے۔
Share this Page: Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp

Please Share Your Comments:

Khanewal Dot Com Logo

Khanewal.com.pk is a comprehensive local portal offering a blend of cultural insights, public service information, and entertainment resources for the Khanewal district.

Copyright © 2026. All Rights Reserved By:Khanewal.com.pk

Website Powered and Coded by: Soft Dot Com, Basic Templete Designed by HTML Codex