Wednesday, 22, July, 2026

خانیوال میں خاتون کو سنگسار کرنے پراز خود نوٹس ملز م گرفتار نہ ہوئے تو آئی جی پنجاب کو معطل کردینگے

خانیوال میں خاتون کو سنگسار کرنے پراز خود نوٹس ملز م گرفتار نہ ہوئے تو آئی جی پنجاب کو معطل کردینگے
اسلام آباد (آن لائن، مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے ضلع خانیوال میں ایک عورت کی سنگساری سے ہلاکت کے ازخود نوٹس کیس میں آئی جی پنجاب پولیس پر کڑی نکتہ چینی کی ہے ، عدالت نے پنجاب میں جرائم کی شرح سے متعلق بھی تفصیلات طلب کرلی ہیں. چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے ضلع خانیوال کے علاقہ کچا کھوہ کے چک نمبر 15 میں خاتون کی سنگساری سے ہلاکت کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی، پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل نے بتایاکہ مقتولہ مریم نے کسی دوسری کی جگہ سے گھاس کاٹی جس پر تنازع ہوا، پنچائیت کو اسکے قتل کیلئے نہیں بلکہ صلح کیلئے بلایاگیا تھا، متوفیہ کا خاوند بھی لاپتا ہوا جو کچھ دیر پہلے ہی بازیاب ہوگیا ہے، خاتون کے قتل کیس میں ملوث افراد میں سے 3 کو گرفتار کرلیاگیاہے، چیف جسٹس نے کہاکہ یہ کیسے ہوگیا کہ عدالت نے کیس سنا اور ادھر کچا کھوہ میں مغوی شوہر بازیاب ہوگیا، تین دن سے یہ آئی جی کیا کررہا تھا، کیا یہ ملک میں کہیں اور تعینات ہونے کے قاب ہے ، پانچ بچوں کی ماں مرگئی، باقی ملزم گرفتار نہ ہوئے تو آئی جی کا اپنے آپ کو معطل ہیں، ہم ان کی معطلی کے لئے کہیں گے، پنجاب کے خادم اعلی کو اس واقعہ کو علم نہیں تو پھر کیا علم ہے، ایڈووکیٹ جنرل نے وقفہ کے بعد عدالت کو بتایاکہ وزیراعلی پنجاب نے واقعہ کا نوٹس لیکر ملزموں کی 48 گھنٹوں میں گرفتاری کا حکم دے دیاہے، جسٹس جواد خواجہ نے ریمارکس میں کہاکہ ملک کے غریبوں کو ختم کردیں، غریب رہیں گے نہ ہی غربت، ایئرکنڈیشنڈ کمرے میں بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں لیکن غریب کی نہیں سنتے،چیف جسٹس نے کہاکہ سنگساری کی شہادت ختم کرنے کیلئے عینی شاہد سرفراز کو اٹھایاگیا ہوگا، پنجاب اتنا بڑا صوبہ ہے اور اس میں امن و امان کی یہ صورت حال ہے، کوئی ناگزیر نہیں ہوتا، قبرستان ایسے لوگوں سے بھرا پڑا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ اگر دو روز کے اندر ملزمان گرفتار نہ ہوئے تو پنجاب پولیس کے انسپکٹر جنرل حبیب الرحمان کا حال بھی وہی ہوگا جو گزشتہ برس رینجرز اہلکاروں کے ہاتھوں ایک بے گناہ شخص سرفراز شاہ کے قتل کے واقعہ میں کراچی پولیس کے سربراہ فیاض لغاری کا ہوا تھا۔ سپریم کورٹ کے حکم پر انہیں معطل کردیا گیا تھا۔ مانیٹرنگ ڈیسک رپورٹ کے مطابق جسٹس کا کہنا تھا کہ اتنا بڑا واقعہ ہونے کے باوجود پنجاب حکومت کی مشینری حرتک میں نہیں آئی اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جانب وجھ کر اس واقعہ کو نظر انداز کیا گیا۔ بنچ میں موجود جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بڑے خدا ترس ہیں لیکن ابھی تک انہوں نے بھی کچھ نہیں کیا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ تصاویر بنوانے کے لئے تو تمام لوگ اکٹھے ہوجاتے ہیں لیکن کام کوئی نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر صوبے کے وزیر اعلیٰ کو اس کا علم نہیں ہے تو پھر دیگر جرائم کے بارے میں انہیں کیا علم ہوگا۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ وزیر اعلیٰ نے دو دن کے اندر ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اگر ملک میں ایسے انسانیت سوز ہونے رہیں گے تو پاکستان کا تشخص دنیا میں کیا رہ جائے گا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا پانچ بچوں کی ماں کو قتل کے علاوہ اس کے خاوند کو بھی اغواءکیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سنگساری کے اس واقعہ کو چھپانے کے لئے ایک عینی شاہد سرفراز کو بھی غائب کردیا گیا۔ سماعت کے دوران مقتولہ مریم کے ایک رشتہ دار حارث اکٹھے اور اور انہوں نے الزام عائد کیا کہ مریم بی بی کو ان کے شوبز نے قتل کیا ہے اور خود ہی روپوش ہوگیا ہے، عدالت نے پنجاب پولیس کے سربراہ کو ریکارڈ سمیت 23 جولائی کو طلب کرلیا ہے۔
Share this Page: Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp

Please Share Your Comments:

Khanewal Dot Com Logo

Khanewal.com.pk is a comprehensive local portal offering a blend of cultural insights, public service information, and entertainment resources for the Khanewal district.

Copyright © 2026. All Rights Reserved By:Khanewal.com.pk

Website Powered and Coded by: Soft Dot Com, Basic Templete Designed by HTML Codex