Wednesday, 22, July, 2026

’کایا پلٹ‘ مقناطیسی مادے کی دریافت کا دعویٰ

’کایا پلٹ‘ مقناطیسی مادے کی دریافت کا دعویٰ
امریکی سائنسدانوں نے ایک انتہائی حساس مقناطیسی مادہ دریافت کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو کہ کمپیوٹرز کی ہارڈ ڈرائیوز اور توانائی ذخیرہ کرنے والے آلات میں انقلابی تبدیلیاں لا سکتا ہے۔ اس دو تہوں والی دھاتی مادے کو اپنی مقناطیسیت میں تبدیلی کے لیے درجۂ حرارت میں معمولی تبدیلی کی ضرورت پڑتی ہے۔ مقناطیسیت میں تبدیلی کو الیکٹرانک انجینیئرنگ میں انتہائی کارآمد خصوصیت سمجھا جاتا ہے۔ اسی بارے میں شکل بدلنے والی نئی دھات کی دریافت ’سٹم سیلز تیار کرنے کا نیا طریقہ دریافت‘ درد ہلکا کرنے والا بٹن دریافت کر لیا گیا متعلقہ عنوانات سائنس , ٹیکنالوجی سان ڈیاگو میں واقع یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے ایوین شلر کا کہنا ہے کہ ’کوئی بھی ایسا مادہ جسے انسان جانتا ہے ایسا نہیں کر سکتا۔ یہ بہت بڑی چیز ہے اور ہم اسے استعمال کر سکتے ہیں۔‘ انھوں نے اپنی اس دریافت کو ڈینور میں امریکن فزیکل سوسائٹی کے اجلاس میں پیش کیا۔ یہ مادہ نکل اور ونیڈیئم آکسائیڈ کے پتلی تہوں کے ملاپ سے بنایا جانے والا یہ مادہ حرارت دیے جانے پر حیران کن ردعمل دکھاتا ہے۔ پروفیسر شلر کا کہنا ہے کہ ’ہم مقناطیسی میدان کے بغیر حرارت کی انتہائی کم حد میں مقناطیسیت کو اپنے قابو میں لا سکتے ہیں اور اصولاً ہم اسے وولٹیج اور کرنٹ سے بھی کنٹرول کر سکتے ہیں۔‘ "سو اگر آپ مستقبل کی کایا پلٹ ٹیکنالوجی کو ڈھونڈنا چاہتے ہیں تو آپ کو اسی قسم کی تحقیق کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم ابھی نہیں جانتے کہ یہ کس طریقے سے بہترین طور پر قابلِ عمل ہو سکتی ہے۔" پروفیسر شلر انھوں نے کہا کہ ’کم درجۂ حرارت پر یہ ایک غیر موصل ہے اور زیادہ درجۂ حرارت پر یہ ایک دھات ہے اور درمیان میں یہ ایک عجیب مادہ بن جاتا ہے۔‘ اگرچہ ابھی حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ اسے کیسے استعمال کیا جائے گا لیکن پروفیسر شلر یقینی طور پر اس کا استعمال کمپیوٹرز کی یادداشت یا میموری کے نظام میں دیکھتے ہیں۔ انھوں نے کانفرنس کے مندوبین کو بتایا کہ ’آج کے بہترین سسٹم بھی حرارت کی مدد حاصل کرتے ہیں لیکن وہ اس کے لیے لیزر استعمال کرتے ہیں جس کے لیے بہت زیادہ حرارت درکار ہوتی ہے۔ لیکن اس نئے مادے میں آپ کو مقناطیسی ایصال(میگنیٹک ریزسٹینس) میں پانچ گنا زیادہ تبدیلی کے لیے بھی اسے صرف بیس ڈگری تک گرم کرنا پڑتا ہے۔‘ اس مادے کا ایک اور ممکنہ استعمال برقی نظام میں ہے۔ پروفیسر شلر کے خیال میں اس کی مدد سے ایسا نئی قسم کا ٹرانسفارمر بنایا جا سکتا ہے جو آسمانی بجلی یا تیز برقی رو کو سہہ سکتا ہو۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس قسم کی بالکل نئی چیزیں ٹیکنالوجی کے میدان میں اکثر غیر متوقع ایجادات کا باعث بنتی ہیں۔ انھوں نے اس سلسلے میں ’جائنٹ میگنیٹوریزسٹینس‘ کی دریافت کا حوالہ تھا جس کی بدولت ڈیجیٹل اشیا میں ہارڈ ڈرائیوز کا حجم بہت کم ہوگیا اور اسی دریافت پر 2007 میں طبعیات کا نوبیل انعام بھی دیا گیا۔ پروفیسر شلر کا کہنا تھا کہ ’سو اگر آپ مستقبل کی کایا پلٹ ٹیکنالوجی کو ڈھونڈنا چاہتے ہیں تو آپ کو اسی قسم کی تحقیق کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم ابھی نہیں جانتے کہ یہ کس طریقے سے بہترین طور پر قابلِ عمل ہو سکتی ہے۔‘
Share this Page: Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp

Please Share Your Comments:

Khanewal Dot Com Logo

Khanewal.com.pk is a comprehensive local portal offering a blend of cultural insights, public service information, and entertainment resources for the Khanewal district.

Copyright © 2026. All Rights Reserved By:Khanewal.com.pk

Website Powered and Coded by: Soft Dot Com, Basic Templete Designed by HTML Codex